22 جولائی 2026 - 17:01
ٹرمپ کا حزب اللہ کے خلاف شام کی ممکنہ مداخلت کا عندیہ، جوزف عون کی خاموشی پر سوالات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کے دوران حزب اللہ کے خلاف شام کی ممکنہ کارروائی کا ذکر کیا، جسے بعض سیاسی حلقوں نے لبنان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا، تاہم اس موقع پر جوزف عون کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنانی صدر جوزف عون سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران دعویٰ کیا کہ شام کی عبوری حکومت کے سربراہ جولانی حزب اللہ کے خلاف لبنان میں کارروائی کرنے کے خواہاں ہیں اور یہ اقدام ’’شاید مؤثر ثابت ہو سکتا ہے‘‘۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان لبنان کے داخلی معاملات میں ایک غیر ملکی ملک کے ممکنہ کردار کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس پر بعض سیاسی اور میڈیا حلقوں نے اسے لبنان کی خودمختاری میں مداخلت قرار دیا ہے۔

اس موقع پر لبنانی صدر جوزف عون نے ٹرمپ کے بیان پر کوئی اعتراض یا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے ملاقات کے دوران کہا کہ ’’ہمارا حتمی مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کی صورتحال کا مستقل خاتمہ ہے‘‘ اور خطے میں استحکام کے قیام پر زور دیا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور لبنانی فوج کا ایک گشتی دستہ بھی زوطر الغربیہ کے علاقے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بن چکا ہے۔

لبنانی صدر نے ملاقات کے دوران ٹرمپ سے بیروت کے لیے امریکی سیاسی حمایت جاری رکھنے کا مطالبہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو ’’تاریخی کامیابیوں‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے اس پر اظہارِ تشکر کیا۔

ٹرمپ کے بیانات اور لبنان میں ممکنہ شامی کردار سے متعلق گفتگو نے خطے کے سیاسی و میڈیا حلقوں میں وسیع ردعمل کو جنم دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha